|
ایچ ای سی نے مزید 6 ارکان کی ڈگریاں جعلی قرار
دیدیں، 2 ایم این ایز، 3 ایم پی ایز اور ایک سینیٹر شامل، مجموعی
طور 13 ارکان کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں
اسلام آباد(
نیوز ویوز سروس) ہائرایجوکیشن کمیشن نے مزید 6 ارکان کی ڈگریاں جعلی قرار دیدی
ان میں 2 ایم این ایز، 3 ایم پی ایز اور ایک سینیٹر کی ڈگریاں شامل ہیں نجی ٹی
وی کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اب تک متعلقہ جامعات سے موصول ہونے والی
ڈگریوں میں سے تیرہ ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی اور مشکوک ثابت ہوئیں ہیں جن
میں دو وفاقی وزرائ بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر پوسٹل سروسز میر
اسرار اللہ زہری اور وفاقی وزیر لائیوسٹاک میر ہمایوں عزیز کُرد کی ڈگریاں غیر
مستند قرار دی گئی ہیں۔ کیونکہ ان کی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تسلیم کردہ
جامعات سے نہیں جن ارکان کی ڈگریاں جعلی اور مشکوک پائی گئی ہیں ان میں سینیٹر
نوابزادہ محمد اکبر، سینیٹر ولی محمد بادینی، قومی اسمبلی جاوید حسنین ملک، رکن
قومی اسمبلی مظہر حیات، رکن صوبائی اسمبلی پنجاب عبدالقیوم، کن صوبائی اسمبلی
خیبر پختونخواہ گلستان خان، عبدالصمد، رکن صوبائی اسمبلی بلوچستان، روبینہ ظفر
زہری اور رکن پنجاب اسمبلی وسیم افضل شامل ہیں۔ جعلی ڈگریوں کے معاملے میں مسلم
لیگ ن اب تک سب سے آگے
ہے جسکے آٹھ
کھلاڑی آئوٹ
اور مزید چار فیصلے کے منتظر ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ق لیگ دونوں کے چار چار
کھلاڑی آئوٹ
ہو چکے ہیں جبکہ دونوں کے مزید دو دو ارکان کی ڈگریاں جعلی قرار پا چکی ہیں۔ جے
یو آئی
ف تین کے سکور کے ساتھ بڑی تیزی سے بڑی جماعتوں کے تعاقب میں ہے ادھر پنجاب
یونیورسٹی نے8 ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی نقول مشکوک او ناقابل شناخت قرار دے
کر واپس کر دی ہیں اور ان کی اصل ڈگریاں طلب کر لی ہیں اسلامیہ یونیورسٹی
بہاولپور نے صائمہ عزیز کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیا۔ یونیورسٹی کو انیس ارکان
کی ڈگریاں تصدیق کے لئے موصول ہوئی تھیں جن میں سے اٹھارہ ارکان کی ڈگریاں درست
قرار پائیں بلوچستان یونیورسٹی نے اٹھاون اراکین پارلیمنٹ کی ڈگریوں کو درست
قرار دیا ہے جبکہ دو کی تصدیق ابھی ہونا باقی ہے بہاولپور سے نمائندہ کے مطابق
مدثر قیوم ناہرا کی ایف اے کی سند بھی جعلی قرار پائی ہے۔ مسلم لیگ ن کوٹ ادو
سے ایم پی اے صائمہ عزیز کے شوہر عزیز احمد پر متعدد الزامات ہیں اور کوٹ
ادوبار نے ان کےخلاف احتجاجی مہم بھی چلا رکھی ہے۔
|